Kya Allah Ne Apne Nabi Ko Ikhtiarat Ata Farmae Hain?
سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ پاک نے کون کون سے اختیارات دیے ہیں؟
اللہ کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس خصوصی اختیار کی کچھ تفصیل مُلاحَظَہ فرمائیے :
حلال یا حرام کرنے کا اختیار: قراٰنِ کریم کی کئی آیات اور کثیر احادیث سے ثابت ہے کہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جس چیز کو چاہیں حلال یا حرام ، فرض یا واجب فرما دیں۔ بطور دلیل ایک ایک آیت اور حدیث مُلاحظہ فرمائیے :
اللہ کریم نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی 2صفات یہ بیان فرمائی ہیں : وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ ترجمۂ کنزالعرفان : اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں حلال فرماتے ہیں اور گندی چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں۔
پ9 ، الاعراف : 157) )
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اِنِّی حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ یعنی بے شک نشہ لانے والی ہر چیز میں نے حرام کردی ہے۔ (نسائی ، ص886 ، حدیث : 5614
عام حکم میں سے کسی کو خاص کردینا: اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ کسی عام حکم میں سے جس کو چاہیں الگ کردیں۔ احادیث میں موجود کثیر مثالوں میں سے6ملاحظہ فرمائیں
(1)نماز کا عام حکم:فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اِنَّ اللَّهَ قَدْ اِفْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بخاری ، 1 / 471 ، حدیث : 1395
یعنی بے شک اللہ پاک نے اپنے بندوں پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں۔
تین نمازیں معاف فرمادیں: رب کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایک صاحب اس شرط پر اسلام لائے کہ صرف 2 ہی نمازیں پڑھیں گے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُن کی اس شرط کو قبول فرمالیا۔ مسند احمد ، 7 / 283 ، حدیث : 20309
(2)گواہی کا عام حکم: اللہ پاک کا فرمان ہے : وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ- ترجمۂ کنزالعرفان : اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنالو۔ پ3البقرۃ : 282
ایک کی گواہی دو کے برابر قرار دے دی:سرکارِدوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ذُوالشَّہادَتَیْن حضرت سیدنا خُزَیمہ بن ثابت اَنصاری رضی اللہ عنہ کی اکیلے کی گواہی ہمیشہ کےلئے دو مَردوں کی گواہی کے برابر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : مَنْ شَهِدَ لَهٗ خُزَ يْمَةُ اَوْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَحَسْبُهٗ یعنی خُزیمہ جس کے حق میں یا جس کے خلاف گواہی دیں تو ایک ان ہی کی گواہی کافی ہے۔ معجم کبیر ، 4 / 87 ، حدیث : 3730
(3) ریشم کا عام حکم: رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے سیدھے ہاتھ میں ریشم اور اُلٹے ہاتھ میں سونا لے کر ارشاد فرمایا : اِنَّ هٰذَيْنِ حَرَامٌ عَلٰى ذُكُورِ اُمَّتِيْ یعنی بے شک یہ دونوں چیزیں میری اُمّت کے مَردوں پر حرام ہیں۔
ابوداؤد ، 4 / 71 ، حدیث : 4057
ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت:حضرت سیّدنا زبیر بن عوام اور حضرت سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہماکے بدن میں خُشک خارش تھی۔ سیّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی۔
بخاری ، 4 / 61 ، حدیث : 5839
(4)سونے کا عام حکم: حضرت سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ یعنی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
([x]) المجالسۃ وجواہر العلم ، 3 / 283 ، حدیث : 3639
سونے کی انگوٹھی پہنادی: حضرت سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ لوگوں کے اعتراض کرنے پر انہوں نے بیان کیا : ہم رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے۔ آخر میں جب صرف یہ انگوٹھی باقی رہ گئی تو نظر مبارک اٹھاکر حاضرین کو مُلاحظہ فرمایا اور نگاہیں جھکالیں ، دوسری بار بھی نظر یں اٹھاکر دیکھا اور نگاہ نیچی کرلی ، تیسری بار پھر نظرِ رحمت ڈالی اورفرمایا : اے براء! میں قریب حاضر ہوکر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے بیٹھ گیا۔ انگوٹھی لے کر میری کلائی تھامی اور ارشاد فرمایا : اِلْبَسْ مَا كَسَاكَ اللهُ وَ رَسُوْلُهٗ یعنی اللہ و رسول تمہیں جو پہناتے ہیں اسے پہن لو۔
مسند احمد ، 6 / 427 ، حدیث : 18625

3 Comments
Alfatima Quran Academy
Great website. Lots of useful information heret, hank you for your effort!
Learn Quran With Tajweed
Maulana Shehzad Turabi
Thank you dear for your response
Alfatima Quran Academy
Thanks for sharing. Allah will bless you for guiding and teaching information about
Learn Quran With Tajweed