Kya Naam e Muhammad ﷺ Per Angothe Chomna Najaiz Hai? |
Shirk Aur Bidat Me Kiya Farq Hai – What Is The Difference Between Shirk & Bidah
نام محمدﷺ پر انگوٹھے چومنا کیسا؟
سوال نمبر 5: نام محمدﷺ پر انگوٹھے کیوں چومے جاتے ہیں اور ایسا عمل کہاں سے ثابت ہے؟ (سائل: محمد آصف ،لیاری کراچی)
جواب : نام محمدﷺ پر اپنے انگوٹھوں کو چوم کرآنکھوں سے لگانا سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے ثابت ہے۔
٭ علامہ اسماعیل حقی تفسیر روح البیان ساتویں جلد صفحہ نمبر 271 پر، المحیط کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ نبی پاکﷺ مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر صدیق وہیں موجود تھے۔ حضرت بلال نے اذان دی، جب انہوں نے کہا اشہد ان محمد رسول اﷲکہا تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دونوں انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے کہا ’’قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَا رَسُوْلَ اللہ‘‘ جب اذان ختم ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! جو تم نے عمل کیا جو بھی اس طرح کرے گا، اﷲ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادے گا۔
٭ امام دیلمی نے مسند دیلمی میں جو روایت نقل کی ہے۔ اس میں ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے اشہد ان محمد رسول اﷲ پر اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا تو آپﷺ نے فرمایا: جو میرے دوست (ابوبکر) جیسا عمل کرے، اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
سوال نمبر 6: بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس حدیث کو امام ملا علی قاری نے اپنی من گھڑت روایتوں والی کتاب الموضوعات الکبیر میں نقل کیاہے؟ لہذا یہ روایت بھی من گھڑت ہے؟
جواب : اس کا جواب خود امام ملا علی قاری نے الموضاعات الکبیر کے صفحہ نمبر108 مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی پر دیتے ہوئے فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ جب یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے ثابت ہے تو عمل کے لئے کافی ہے کیونکہ نبی پاکﷺ کا ارشاد عالی ہے کہ تم پر میرا طریقہ اور خلفائے راشدین کا طریقہ لازم ہے۔
٭ علمائے اَُمّت نے بھی انگوٹھے چومنے کو جائز اور مستحب لکھا
1۔ نقایہ کے شارح نے شرح نقایہ میں اسے مستحب لکھا۔
2۔ امام سید احمد طحطاوی نے حاشیہ طحطاوی علی المراقی الفلاح کے صفحہ نمبر 111 باب الاذان میں اسے جائز لکھا۔
3۔ امام محمد امین ابن عابدین شامی نے فتاویٰ شامی جلد 2 میں صفحہ نمبر 84 پر اسے مستحب اور جائز لکھا۔ (سائل: محمد آصف، لیاری کراچی)
