اللہ تعالیٰ رؤف اور رحیم ہے :
القرآن: اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر رؤ ف اور رحیم ہے ۔ (سورئہ بقرہ ،آیت:143پارہ 2 )
سرکارِ اعظم ا بھی رؤف اور رحیم ہیں۔
القرآن: لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ م بِالْمُؤْ مِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o
ترجمہ: بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں (بھاری) ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ، مومنوں پر ’’رؤف اور رحیم‘‘ ہیں۔(سورئہ توبہ، آیت128پارہ 11)
پہلی آیت پر غور کریں تو سوال پیدا ہوتاہے کہ رؤف اور رحیم اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں پھر دوسری آیت میں سرکارِ اعظم ا کو رؤف اوررحیم فرمایا گیا تو کیا یہ شرک ہوگیا؟
اس میں تطبیق یوں قائم ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر رؤف اوررحیم ہے جب کہ سرکارِ اعظم ا ، اللہ تعالیٰ کی عطا سے رؤف اوررحیم ہیںلہٰذا جہاں ذاتی اورعطائی کا فرق واضح ہوجائے وہاں شرک کا حکم نہیں لگتا۔
#Quran #Hadees #Hadith #Askmufti #Sawal #Jawab #Forum #Masail #Shariah #Ahkameshariat #post
