السلام علیکم
یہ دلائل بہت بحنت سے تیار کیے جاتے ہیں ہم نے اللہ کی ذات کے بارے میں زیادہ کلام نہیں کیا صرف دلائل سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قرآن مجید کی وہ آیت جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے عرش پر ہونے کا ذک ہے ہم اس کو آیت متشابهات مانتے ہیں آیت متشابهات وہ ہوتی ہیں جس کے معنیٰ اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں پھر اگر آپ اس آیت کو آیت متشابهات مان لیتے ہیں تو آپ کو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ نے قریب کا لفظ دو بار استعمال فرمایا اور ایک اور بات اگر کوئی شخص یہ مانلے کہ اللہ عرش پر ہے تو پھر سورۃ مؤمن کی آیت کا کیا ہوگا جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے عرش کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں
حوالے سارے نیچے دیے گئے ہیں ملاحظہ کریں اور اگر کوئی سوال ہے تو ضرور کیجیے۔
سورۃ حدید آیت: 4-5
هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِؕ-یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُ جُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَاؕ-وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۴)لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ(۵)
وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ زمین کے اندر جا تا ہے اور جوکچھ اس سے باہر نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جوکچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔آسمانوں اور زمین کی سلطنت اسی کیلئے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کو لوٹایا جاتا ہے۔
وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَىٕذٍ ثَمٰنِیَةٌ‘‘(حاقہ:۱۷)
اور اس دن آٹھ فرشتے تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائیں گے۔
سورۃ مؤمن آیت: 9-7
اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ:
عرش اٹھانے والے اور اس کے ارد گرد موجود (فرشتے)۔
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ – (ق:16/50)
”ہم شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔”
” وَاِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْب – (البقرة:186/2)
”اور جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں کہو کہ میں قریب ہوں۔
پس اللہ لوگوں کے قریب ہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک جہاد میں رسول اللہ ۖ کے ساتھ تھے جب ہم کسی اونچی جگہ چڑھتے تو اللہ اکبر کی اونچی آواز لگاتے۔ آپ نے فرمایا لوگو! میانہ روی اختیار کرو۔ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں بلا رہے ہو تم تو سننے اور دیکھنے والے کو پکارتے ہو جس کو تم بلاتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے۔(بخاری’ مسلم)
#Ask #Askmufti #darulifta #daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Shariah #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog
