Kya Naik Bande Qabar Me Zinda Hain?

Kya Naik Bande Qabar Me Zinda Hain?

کیا انبیا‏، اولیا اور بزرگان دین اپنی قبروں میں زندہ ہیں؟

سوال: كیا الله تعالىٰ كے نیك بندے اپنى قبروں مىں زنده هیں؟

جواب:اﷲ تعالیٰ کے نیک بندے اپنی قبور میں زندہ ہیں۔ ان کے اجسام حتی کہ ان کے کفن کو بھی قبر کی مٹی نہیں کھاتی۔ وہ اپنے چاہنے والوں کو قبور میں رہ کر بھی جانتے اور پہچانتے ہیں، سلام سنتے ہیں اور سلام کا جواب بھی عنایت فرماتے ہیں۔ ان کو بعد از وصال بھی اﷲ تعالیٰ نے ایسی حیات عطا کی ہے کہ وہ تصرفات بھی فرماتے ہیں۔ ان کا دنیا سے رخصت ہونا ایسا ہے جیسے ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہونا ہے۔ یہی اسلامی عقیدہ ہے جس کی تائید میں احادیث اور علمائے اسلام کی کتابوں سے حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔

حدیث شریف: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: حضورﷺ کا ارشاد ہے جب حافظ قرآن مرتا ہے خدا زمین کو حکم فرماتا ہے۔ اس کا گوشت نہ کھانا، زمین عرض کرتی ہے اے رب! میں اس کا گوشت کیسے کھائوں گی جبکہ تیرا کلام اس کے سینے میں ہے (الفردوس بما ثور الخطاب حدیث 1112، جلد 1، ص 284، مطبوعہ دارالکتب العلم بیروت، فتاویٰ رضویہ جدید جلد 9، ص 129، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

حدیث شریف: ابن عبدالبر نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہا سے روایت کی۔ حضور اکرم نور مجسمﷺ نے فرمایا جو شخص بھی اپنے کسی ایسے مومن بھائی کی قبر سے گزرتا ہے جو اسے دنیا میں پہچانتا تھا ،اسے سلام کرتا ہے تو صاحبِ قبر اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے (حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، فصل فی زیارۃ القبور، جلد اول، ص 341، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی، فتاویٰ رضویہ (جدید) جلد 9، ص 893، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

علمائے اسلام کے ارشادات

1… علامہ زرقانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہر جسم بوسیدہ نہیں ہوتا۔ اولیاء، باعمل علماء، شہداء، طالب ثواب موذن، باعمل حافظ قرآن، سرحد کا پاسبان، طاعون میں صبر کے ساتھ اور اجر چاہتے ہوئے مرنے والا، کثرت سے ذکر اﷲ کرنے والا ان کے بدن نہیں بگڑتے (شرح زرقانی علی المؤطا، باب جامع الجنائز، مکتبہ تجاریہ کبریٰ مصر جلد 2، ص 84، فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 9، ص 128، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

2… امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ شرح الصدور میں نقل فرماتے ہیں کہ امام قشیری علیہ الرحمہ اپنے رسالے میں بسند خود حضرت ابو سعید خراز علیہ الرحمہ سے راوی کہ میں مکہ معظمہ میں تھا۔ باب بنی شیبہ پر ایک جوان مردہ پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا۔ اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ اﷲ تعالیٰ کے پیارے زندہ ہیں۔ اگرچہ مرجائیں۔ وہ تو ایک گھر سے دوسرے گھر میں جاتے ہیں –

(شرح الصدور، باب زیارۃ القبور و علم الموتیٰ، ص 86، خلافت، اکیڈمی مینگورہ سوات، فتاویٰ رضویہ، جلد 9، ص 433، جامعہ نظامیہ لاہور)

3… حضرت امام ابو علی علیہ الرحمہ سے راوی ہیں۔ میں نے ایک فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا، ان کا سر خاک پر رکھ دیا کہ اﷲ تعالیٰ ان کی غربت پر رحم کرے، فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا۔ اے ابو علی! تم مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے، میں نے عرض کی۔ اے میرے سردار! کیا موت کے بعد زندگی ہے؟ فرمایا۔ میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے۔ بے شک وہ وجاہت و عزت جو مجھے روز قیامت ملے گی۔ اس سے میں تیری مدد کروں گا (شرح الصدور، فتاویٰ رضویہ، جلد 9، ص 433، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

4… عطاف کہتے ہیں میری خالہ مجھ سے بیان کرتی ہیں۔ میں ایک بار زیارت قبور شہداء کو گئی۔ میرے ساتھ دو لڑکوں کے سوا کوئی نہ تھا جو  میری سواری کا جانور تھامے تھے۔ میں نے مزارات پر سلام کیا۔ جواب سنا اور آواز آئی ’’وﷲ انا نعرفکم کما یعرف بعضنا بعضا‘‘ خدا کی قسم تم لوگوں کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو۔ میرے بدن پر بال کھڑے ہوگئے۔ میں سوار ہوئی اور واپس آئی۔

(المستدرک للحاکم، کتاب المغازی، دارالفکر بیروت 29/3، فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 9، ص 722، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

5: ابن ابی الدنیا اور بیہقی دلائل میں انہیں عطاف مخزومی کی خالہ سے راوی: ایک دن میں نے قبر سیدنا حمزہ رضی اﷲ عنہ کے پاس نماز پڑھی۔ اس وقت جنگل میں کسی آدمی کا نام و نشان نہ تھا۔ بعد نماز مزار شریف پر سلام کیا۔(مزار کے اندر سے)  جواب آیا اور اس کے ساتھ یہ فرمایا:

جو میری قبر کے نیچے سے گزرتا ہے، میں اسے پہچانتا ہوں، جیسا یہ پہچانتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا اور جس طرح رات اور دن کو پہچانتا ہوں۔

(دلائل النبوۃ، باب قول اﷲ لا تحسبن الذین دارالکتب العلمیہ بیروت 308/3، فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 9، ص 723، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور، پنجاب)

6: قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی تذکرۃ الموتیٰ میں لکھتے ہیں۔ اولیاء اﷲ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے جسم ہیں یعنی ان کی ارواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں، کہتے ہیں: حضورﷺ کا سایہ نہ تھا۔ ان کی ارواح زمین آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جاتی ہیں۔ اس لئے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کو نہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابن ابی الدنیا نے مالک سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں، مومنین سے مراد کاملین ہیں۔ حق تعالیٰ ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرماتا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے ہیں اور قرآن مجید پڑھتے ہیں (تذکرۃ الموتیٰ والقبور (اردو) ارواح ٹہرنے کی جگہ ص 75، نوری کتب خانہ، نوری مسجد اسلام گنج لاہور، فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 9، ص 432، مطبوعہ جامعہ نظامیہ لاہور)

7:علامہ امام ملا علی قاری علیہ الرحمہ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں۔ اولیاء اﷲ کی دونوں حالتوں (حیات و ممات) میں اصلاً فرق نہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں۔ (مرقات شرح مشکوٰۃ، باب الجمعہ، فصل الثالث، 241/3، مطبع امدادیہ ملتان، فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 9، ص 433، مطبوعہ جامعہ نظامیہ، لاہور)

ایک احمقانہ عقیدہ اور اس کا رد

حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ شخص سراسر جاہل ہے جو بعض گمراہ فرقوں کی طرح یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ’’روحیں عارضی ہیں اور موت کے سبب وہ ایسے زائل ہوجاتی ہیں جیسے مردے سے حرکات و سکنات زائل ہوجاتی ہیں‘‘ اور وہ گمراہ فرقے یہ سمجھتے ہیں کہ جب اولیاء اﷲ رحمہم اﷲ انتقال کرجاتے ہیں تو وہ مٹی ہوجاتے ہیں اور زمین کی مٹی کے ساتھ مل کر ان کی روحیں بھی ختم ہوجاتی ہیں لہذا ان کی قبروں کی کوئی تعظیم نہیں۔ اس وجہ سے یہ لوگ ان کی توہین و تحقیر کرتے ہیں اور ان کی زیارت، ان سے برکت حاصل کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں۔

حضرت امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ ایک دن میں حضرت سیدنا ارسلان دمشقی علیہ الرحمہ کے مزار پرانوار کی زیارت کے لئے جارہا تھا تو میں نے خود اپنے کانوں سے ایک شخص کو یہ کہتے سنا ’’تم ان مٹی کے ڈھیروں پر کیوں جاتے ہو؟ یہ تو سراسر بے وقوفی ہے‘‘ اس کی بات سنکر مجھے انتہائی تعجب ہوا۔ میں نے دل میں کہا ’’کوئی مسلمان ایسی بات نہیں کہہ سکتا‘‘ (کشف النور عن اصحاب القبور، امام عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ، ص 103، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

#Ask #Askmufti #Qabar #Wali #Darulifta #Daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Youthclub #Shariah #Discussion #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog

Leave a comment

About us

Maulana Shehzad Turabi is an Islamic scholar of Ahle Sunnat Wal Jamat.
He is a preacher and writer of 100 Islamic books as well.

Follow Us

Contacts

Maulana Shehzad Turabi2026 All rights reserved.