سوال: غیر مسلم ڈاکٹر سے علاج کروانا کیسا ہے۔ نیز خواتین کامرد ڈاکٹر سے علاج کروانا کیسا ہے؟
.(سائل: محمد عاصم، جامع کلاتھ، کراچی)
جواب : غیر مسلم ڈاکٹر سے علاج کروانا شرعاً درست ہے لیکن اگر مسلمان ڈاکٹر موجود ہو اور وہ تسلی بخش علاج کرسکتا ہو، تو پھر مسلمان ڈاکٹر سے ہی علاج کروایا جائے۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ جلد 24 ص 197 پر فرماتے ہیں کہ اگر طبیب کے بتانے یا کسی دوسرے ذریعے سے دوا میں حرام شے کی آمیزش کا علم ہوجائے تو علاج ممنوع ہے۔ بصورت دیگر (یعنی یہ معلوم ہوجائے کہ آمیزش نہیں ہے) تو طبیب چاہے مسلمان ہویا غیر مسلم، علاج کروانے میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر مسلمان ڈاکٹر (طبیب) موجود ہو تو بچنا بہتر ہے۔
نیز خواتین کا مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا بوقت ضرورت شرعاً درست ہے یعنی جب کوئی خاتون ڈاکٹر موجود نہ ہو یا اگر ہو تو تسلی بخش علاج نہ کرسکتی ہو یا اس کے اخراجات (فیس وغیرہ) برداشت نہ کرسکے تو اب عورت کے لئے اجازت ہے کہ وہ مرد ڈاکٹر سے علاج کروائے۔
