سوال نمبر: اگرامام ظہر یا عصر میں بلند آواز سے قرأت کرے تو کیا حکم ہوگا؟
جواب : امام پر ظہر و عصر کی نماز میں آہستہ آواز میں قرأت کرنا کہ صرف اس کے کان سنیں، واجب ہے۔
جیسا کہ امام شامی علیہ الرحمہ فتاویٰ شامی جلد چہارم صفحہ نمبر469 پر فرماتے ہیں کہ ظہر و عصر میں آہستہ قرأت کرنا واجب ہے۔
اگر کسی امام نے ظہر یا عصر میں تین الفاظ یعنی الحمدﷲ رب العالمین کہہ دیا پھر یاد آیا کہ قرأت آہستہ کرنی تھی، لہذا اب امام پر سجدۂ سہو ہوگا اور اگر دو الفاظ پر یاد آگیا۔ اب آہستہ سے قرأت کرے ایسی صورت میں سجدۂ سہو لازم نہیں ہوگا اور تین الفاظ یا تین سے زیادہ الفاظ پڑھ لئے، اب سجدۂ سہو واجب ہوگا اور اگر نہ کرے یا بھول گیا تو امام اور مقدیوں پر نماز واجب الاعادہ یعنی نماز لوٹانی ہوگی۔
