تاریخ ولادت متفقہ طور پر بارہ ربیع الاول ہے:
٭ رسول اﷲﷺ کی ولادت عام الفیل سوموار (پیر) کے دن ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی (حوالہ جات: سیرت ابن کثیر ، جلد اول، ص 125، تاریخ طبری جلد دوم، ص 125، تاریخ ابن خلدون، جلد دوم، ص 710، السیرۃ النبوۃ ابن ہشام، جلد اول، ص 171، اعلام النبوۃ ص 192، مدارج النبوت جلد دوم، ص 15، سیرت الرسول ص 12، الشمامۃ العنبریہ ص 7 (غیر مقلد)، سیرت خاتم الانبیاء ص 18 (مفتی شفیع دیوبندی)
فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم
القرآن= قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذَالِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ
(سورۂ یونس آیت 58، پارہ 11)
ترجمہ: تم فرمائو اﷲ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں اور ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔
بلاشبہ اﷲ تعالیٰ کا فضل اور سب سے بڑھ کر رحمت، رحمۃ للعالمینﷺ کی تشریف آوری ہے تو ان کی آمد پر جشن اور خوشی کیوں نہ منائیں۔
سرور کونینﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا:
حدیث شریف: حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی پاکﷺ سے سوموار کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا۔ اسی دن میں پیدا ہوا تھا اور اسی دن مجھ پر (پہلی) وحی نازل ہوئی تھی (مسلم جلد دوم، کتاب الصیام، حدیث 2646، ص 88، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
٭ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ (متوفی 911ھ) نے اپنی کتاب ’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ کے صفحہ نمبر 64 پر امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ (متوفی 852ھ) کے دلائل کی تائید میں ایک اور استدلال پیش کیا ہے جو جشن عید میلاد النبیﷺ کے متعلق ایمان کو تازہ کرنے والی چیز ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ یوم میلاد النبیﷺ منانے کے حوالے سے ایک اور دلیل مجھ پر ظاہر ہوئی ہے جسے امام بیہقی علیہ الرحمہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضورﷺ نے اعلان نبوت کے بعد خود اپنا عقیقہ کیا، باوجود اس کے کہ آپﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب آپﷺ کی ولادت کے ساتویں روز آپﷺ کا عقیقہ کرچکے تھے اور عقیقہ دو مرتبہ نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اسی پر محمول کیا جائے گا کہ آپﷺ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے رحمۃ للعالمین اور اپنی اُمّت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لئے خود عقیقہ کیا۔ اسی طرح ہمارے لئے مستحب ہے کہ ہم بھی حضورﷺ کے یوم ولادت پر خوشی کا اظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجالائیں ۔
#12rabiulawal #Eidmilad #Miladunabi #Sharia #Fatwa #Article
