کیا انبیاء کرام بعد از وصال بھی حیات ہیں؟
انبیاء و اَولیاء سے اِستعانت و استغاثہ* *بعد اَز وصال حیاتِ | موت الانبیاء علیہم السلام
سوال نمبر : کیا انبیاء کرام بعد از وصال حیات ہیں۔ کیا انہیں موت نہیں آئے گی؟
جواب : انبیاء کا وصال کے بعد حیات ہونا احادیث اور علمائے اُمّت کے اقوال سے ثابت ہے۔ وعدۂ الٰہیہ کے تحت فقط ایک لمحہ ان کو موت آتی ہے، اس کے بعد ان کو ایسی حیات دی جاتی ہے جس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا چنانچہ ابو دائود کتاب الصلوٰۃ میں حدیث 1034 ہے۔ نبی پاکﷺ نے فرمایا: جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پرپیش کیا جاتا ہے۔ لوگ عرض گزار ہوئے، یارسول اﷲ! اس وقت بھلا ہمارا درود پڑھنا کس طرح پیش ہوگا جبکہ آپ مٹی ہوچکے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: اﷲ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے۔
٭ انبیاء کرام کوان کے رب نے بعد از وصال بھی ایسی حیات دی ہے کہ وہ اپنی قبر میں نماز بھی پڑھتے ہیں۔ چنانچہ مسلم شریف کتاب الفضائل میں حدیث نمبر6158 ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا: میں شب معراج حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرا، وہ قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
٭ صاحب دلائل الخیرات امام جزولی علیہ الرحمہ دلائل الخیرات کے ص 18 پر حدیث نقل فرماتے ہیں۔ ایک مرتبہ رسول پاکﷺ سے پوچھا گیا کہ جو آپ پر نزدیک سے درود بھیجتے ہیں، دور سے درود بھیجتے ہیں اور بعد میں آنے والے بھی بھیجیں گے۔ کیا یہ سب درود آپ کو پیش کئے جاتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ اہل محبت کا درود تو میں اپنے کانوں سے سنتا ہوں اور انہیں پہچانتا ہوں۔
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام بعد از وصال اپنی قبور میں زندہ ہیں۔
