Allah ko Raam ya Bhagwan Kahna Haram Hai?

Allah ko Raam ya Bhagwan Kahna Haram Hai?

اللہ کو رام یا بھگوان کہنے کا حکم

اﷲ تعالیٰ کو بھگوان یا رام کہنا کیسا؟
سوال نمبر : اﷲ تعالیٰ کو بھگوان یا رام کہنا کیسا؟
جواب : فتاویٰ شارح بخاری، کتاب العقائد جلد اول، صفحہ نمبر 171 پر مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بھگوان اور رام کے جو حقیقی معنی ہیں، ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص اﷲ تعالیٰ کو بھگوان یا رام کہے، وہ بلاشبہ کافر مرتد ہے۔ رام کے معنی کسی میں گھسا ہوا، یہ عیب ہے۔
اسے تجدید ایمان کرنا ہوگا۔ اگر نکاح ہوچکا ہے تو تجدید نکاح یعنی دوبارہ نکاح کرنا ہوگااور اگر حقیقی معنی معلوم نہ ہو تو اﷲ تعالیٰ کو بھگوان اور رام کہنا حرام ہے۔

#Mufti #Shariah #Ahkam #Post #Question #Answer #Askmufti

Leave a comment

About us

Maulana Shehzad Turabi is an Islamic scholar of Ahle Sunnat Wal Jamat.
He is a preacher and writer of 100 Islamic books as well.

Follow Us

Contacts

Maulana Shehzad Turabi2026 All rights reserved.