سوال: كىا حضورﷺ كے وصال كے بعد بھى صحابه كرام علىهم الرضوان نے ىه عمل كىا؟
جواب: جى هاں حضرت عثمان غنى رضى الله عنه كے دور خلافت مىں صحابى رسول حضرت عثمان بن حنىف رضى الله عنه نے اىك سائل كو اس عمل كى تعلىم دى۔
٭ امام سلىمان بن احمد طبرانى رضى الله عنه (متوفىٰ 360ھ) اپنى سند كے ساتھ حضرت عثمان بن حنىف رضى الله عنه سے نقل كىا كه اىك شخص اپنے كسى كام كے لئے حضرت عثمان غنى رضى الله عنه كے پاس جاتا تھا لىكن حضرت عثمان غنى رضى الله عنه اس كى طرف متوجه نه هوتے اور نه اس كے كسى كام كى طرف دھىان دىتے۔ اىك دن اس كى ملاقات مجھ سے هوئى تو اس نے معامله بتاىا تو مىں نے اس سے كها وضو كركے مسجد مىں دو ركعت نماز ادا كرو اور ىوں دعا كرو۔ اے الله جل جلالهٗ مىں تجھ سے مانگتا هوں‘ اپنے نبى رحمت محمد (ﷺ) كى طرف متوجه هورها هوں تاكه وه مىرى حاجت پورى فرمادے۔
پھر اپنى حاجت كا تذكره كرو اور مىرے پاس آئو تاكه مىں تمهارے ساتھ جائوں‘ اس شخص نے جاكر مىرے بتائے هوئے طرىقه پر اس عمل كوكىا پھر وه حضرت عثمان غنى رضى الله عنه كے پاس چلا گىا۔ دربان نے ان كا دروازه كھول دىا اور انهىں حضرت عثمان غنى رضى الله عنه كے پاس لے گىا۔ حضرت عثمان رضى الله عنه نے انهىں اپنى مسند پر ساتھ بٹھاىا اور پوچھا تمهارا كىا كام هے؟ اس نے اپنا كام بتاىا تو حضرت عثمان غنى رضى الله عنه نے اس كا كام كردىا اور فرماىا۔ اس وقت تك مجھے آپ كا كام ىاد نه رها‘ جب بھى كام هو‘ مىرےپاس آجاىا كرو۔
پھر اس شخص كى ملاقات حضرت عثمان بن حنىف رضى الله عنه سے هوئى تو كها كه الله تعالىٰ آپ كو جزائے خىر دے۔ حضرت عثمان غنى رضى الله عنه مىرے كام كى طرف متوجه نه هوتے تھے اور نه هى اس معامله كى طرف غور كرتے تھے حتى كه آپ نے ان كے هاں مىرى سفارش كى۔
حضرت عثمان بن حنىف رضى الله عنه نے فرماىا۔ خدا تعالىٰ كى قسم! مىں نے حضرت عثمان غنى رضى الله عنه سے تمهارى كوئى سفارش نهىں كى۔ هاں هم اىك دفعه رسول الله ﷺ كى بارگاه مىں حاضر تھے‘ آپﷺ كے پاس اىك نابىنا آىا اور اس نے اپنے نابىنا پن كے بارے مىں عرض كى۔ آپﷺ نے فرماىا صبر كرسكتے هو؟ اس نے عرض كى ’’ىارسول اللهﷺ! مىرا كوئى معاون نهىں اور مىرے لئے بڑى مشكل هے۔ آپﷺ نے فرماىا وضو خانے جائو‘ وضو كرو پھر دو ركعت نماز پڑھو پھر ان كلمات سے دعا كرو۔
حضرت عثمان بن حنىف رضى الله عنه نے بتاىا كه ابھى هم مجلس سے الگ هوئے نه تھے اور نه هى طوىل گفتگو هوئى تھى كه وه نابىنا شخص آگىا كه پهلے نابىنا هى نه تھا۔
امام طبرانى رضى الله عنه نے نقل كركے لكھا
وَالْحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ (ىه حدىث صحىح هے) (بحواله: المعجم الكبىر جلد اول‘ ص 183)
٭ علمائے اسلام نے قىامت تك اس عمل كى اجازت عطا فرمائى:
٭ امام محمد بن جزرى علىه الرحمه (متوفىٰ 833ھ) نے امام ترمذى سے نسائى اور ابن ماجه كے حواله سے دعاء حاجت اپنى كتاب حصن حصىن كے صفحه نمبر 205 پر ىوں نقل كى جسے حاجت پىش آئے وه وضو كرے اور اچھى طرح كرے۔ دو ركعت نماز ادا كرے پھر ىه دعا كرے۔ اے الله! مىں تجھ سے مانگتا هوں اور تىرى بارگاه مىں تىرے نبى رحمت محمدﷺ كے وسىله سے متوجه هوں۔ اے محمدﷺ كے لئے اپنى حاجت مىں اپنے رب كى بارگاه مىں آپ كو وسىله بناتا هوں ۔ (حصن حصىن ص255 مطبوعه‘ تاج كمپنى لاهور‘ كراچى)
٭ حضرت امام احمد بن ابى خىثمه رضى الله عنه (متوفىٰ 311ھ) نے رواىت مىں اضافه بھى نقل كىا
وَاِنْ كَانَتْ حَاجَةٌ فَافْعَلُ مِثْلَ ذٰلِكَ
(اگر كبھى ضرورت پڑے تو اىسا كرلىا كرو)
(بحواله : تارىخ ابن ابى خىثمه‘ بحواله مصباح الزجاجة)
دوران اذان ىارسول اللهﷺ كهنے كا ثبوت:
٭ حضرت امام سىد احمد طحطاوى علىه الرحمه نے باب الاذان مىں فائده كے عنوان كے تحت قهستانى كے حواله سے لكھا كه كنزالعباد مىں هے۔ جب موذن سے ’’اشهد ان محمدا رسول الله‘‘ كے كلمات سنىں تو پهلى دفعه كهىں۔
صَلّى اللهُ عَلَيْكَ يا رَسُوْلَ الله ىعنى ىارسول اللهﷺ آپ پر الله تعالىٰ كى رحمتوں كا نزول هو۔
اور دوسرى دفعه سن كر ىه پڑھىں
قُرَّةُ عَيْنِيْ بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِي بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ بَعْدَ وَضْعِ اِبِهَامَيْهِ عَلٰى عَيْنَيْهِ فَاِنَّهُ يَكُوْنُ قَائِدًا لَهُ فِى الْجَنَّةِ
ىعنى ىارسول الله ﷺ آپ مىرى آنكھوں كى ٹھنڈك هىں۔ اپنے دونوں انگوٹھے آنكھوں پر ركھ كر كهئے۔ اے الله جل جلالهٗ مىرے سمع و بصر مىں اضافه كر‘ تو اىسے شخص كو حضورﷺ جنت مىں لے جائىں گے۔
اس پر مذكور حدىث كا حواله دىا۔
وَذَكَرَ دَيْلَمِىُّ فِىْ الْفِرْدُوْسِ مِنْ حَدِيْثِ اَبِى بَكْرٍ رَضِىَ اللهَ عَنْهُ مَرْفُوْعًا مَنْ مَّسَحَ اْلعَيْنَ
ىعنى اور امام دىلمى علىه الرحمه نے الفردوس مىں حضرت ابوبكر صدىق رضى الله عنه سے فرمان نبوى ذكر كىا جس نے آنكھوں پر انگوٹھے ركھے (حاشىه طحطاوى على المراقى ص 111)
٭ امام محمد امىن ابن عابدىن شامى علىه الرحمه (متوفى 1252ھ) كے تتمه عنوان كے تحت ىهى گفتگو لكھى۔ ان كے الفاظ ىه هىں۔
يَسْتَحَبُّ اَنْ يُقَالَ عِنْدَ سَمَاعِ الْأُولَى مِنَ الشَّهَادَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْك يَا رَسُوْلَ اللهِ وَعِنْدَ الثَّانِيَّةِ مِنْهَا قُرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ
ىعنى مستحب ىه هے كه اذان كى پهلى شهادت سن كر پڑھا جائے صَلَّى اللهُ عَلَيْك يَا رَسُوْلَ اللهِ اور دوسر ى مرتبه پڑھا جائے قَرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ىعنى ىارسول اللهﷺ!آپ مىرى آنكھوںكى ٹھنڈك هىں
امام شامى علىه الرحمه نے كنزالعباد اور فتاوىٰ صوفىه كا حواله دىا پھر كتاب الفردوس سے حدىث نبوى ذكر كى (بحواله: فتاوىٰ شامى جلد 2‘ص 84)
نقاىه كے شارح نے اسے مستحب قرار دىتے هوئے لكھا هے۔
وَاعْلَمْ اَنَّهٗ يَسْتَحِبُّ اَنْ يَّقَالَ عِنْدَ سَمَاعِ الْأُوْلٰى مِنَ الشَّهَادَةِ الثَّانِيَةِ صَلَّى اللهُ عَلَيْك يَا رَسُوْلَ اللهِ وَعِنْدَ الثَّانِيَّةِ مِنْهَا قُرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ
ىعنى واضح رهے كه اذان مىں اولاً شهادت رسالت كے جواب مىں ىه كهنا مستحب هے
صَلَّى اللهُ عَلَيْك يَا رَسُوْلَ اللهِ دوسرى مرتبه كے جواب مىں ىوں كها جائے قُرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ
(بحواله: فتاوىٰ رضوىه‘ جلد 5‘ص 435)
معلوم هوا كه علمائے اُمّت نے بھى ىارسول اللهﷺ كها اور اُمّت كو كهنے كى ترغىب دى۔
هر مسلمان نمازمىں حضورﷺ كو خطاب
كركے سلام عرض كرتا هے
حدىث شرىف = حضرت شفىق بن سلمه‘ حضرت عبدالله بن مسعود رضى الله عنه سے رواىت كرتے هىں۔ انهوں نے كها جب نبى پاكﷺ كے ساتھ نماز مىں هوتے تو (سلام پھىرنے سے پهلے) ىه كهتے تھے۔ الله تعالىٰ كے بندوں كى طرف سے الله تعالىٰ پر سلام فلاں اور فلاں پر سلام تو نبى پاكﷺ نے فرماىا۔ الله تعالىٰ پر سلام نه كهو‘ اس لئے كه وه بذات خود هى سلام هے لىكن ىه كهو (التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبى و رحمة الله و بركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين) اور جب تم نے ىه (وعلى عباد الله الصالحىن) كها تو ىه دعا هر بنده خواه آسمان مىں هو ىا آسمان اور زمىن كے درمىان هوگا‘ اس كو پهنچ جائے گى۔ اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده و رسوله اور اس كے بعد جو دعا تجھے اچھى لگے‘ وه پڑھ لے (بخارى‘ كتاب الاذان‘ حدىث نمبر 835‘ ص 135‘مطبوعه دارالسلام‘ رىاض سعودى عرب)
اقوال علمائے اُمّت:
٭ حجة الاسلام امام غزالى علىه الرحمه (متوفىٰ 505ھ) نماز كے هر عمل كے وقت حضورِ قلب كى كىفىت بىان كرتے هوئے فرماتے هىں۔ اے نمازىو! جب تم حالت نماز مىں تشهد پڑھتے هوئے
السَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ پر پهنچو
وَاحْضُرْ فِىْ قَلْبِكَ النَّبِىَّ وَشَخْصَهُ الْكَرِىَمِ وَ قُلْ السَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وَلِيَصْدُقُ اَمَلَكَ فِىْ اَنَّهٗ يَبْلُغُهٗ وَيَرَدُّ عَلَيْكَ مَاهُوَ اَوْفٰى مِنْه
ىعنى تو اپنے دل مىں نبى اكرمﷺ اور آپﷺ كى ذات مباركه كو حاضر سمجھ كر عرض كرے۔ نبى محترم! آپﷺ پر الله تعالىٰ كى رحمت اور بركات كا نزول هو اور اس بات كى امىد بھى ركھو كه همارا سلام آپﷺ كى بارگاه مىں پهنچتا هے اور آپ اس سے بهتر جواب سے نوازتے هىں (بحواله: احىاء علوم الدىن جلد اول‘ ص 99)
٭ امام علاء الدىن الحصكفى تنوىر الابصار كى شرح در مختار مىں رقم طراز هىں:
وَيَقْصِدُ بِأَلْفَاظِ التَّشَهُّدِ مَعَانِيَهَا مُرَادَةً لَّهٗ وَجْهِ )الْإِنْشَاءَ( كَانَّهُ يُحَيِّي اللهَ تَعَالٰى وَيُسَلِّمُ عَلٰى نَبِيِّهٖ وَعَلٰى نَفْسِهٖ وَاَوْلِيَائِ هِ لَا (الْاِخْبَارَ) عَنْ ذَلِكَ، وَظَاهِرُهُ اَنَّ ضَمِيرَ عَلَيْنَا لِلْحَاضِرِينَ لَا حِكَايَةَ سَلَامِ اللهِ تَعَالٰى
ىعنى نمازى الفاظ تشهد كے معانى كا اراده كركے ان كو بطرىق ان شاء كهے گوىا نمازى اپنى طرف سے الله تعالىٰ كى بارگاه مىں عجز و نىاز پىش كررها هے اور اپنى طرف سے اپنے نبى پر اور اپنى ذات پر اور اولىاء پر سلام كهه رها هے۔ ىه الفاظ كهتے وقت اس واقعه كى خبر كى حكاىت كا اراده نه هو جو شبِ معراج هوا (الدر المختار‘ جلد اول‘ ص 177)
3۔ امام عبدالوهاب شعرانى علىه الرحمه‘ شىخ على الخواص كے حوالے سے لكھتے هىں:
سَمِعْتُ سَيّدِىْ عَلِىَّ الْخَوَّاصَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالىٰ يَقُوْلُ اِنَّمَا اَمَرَ الشَّارِعُ لِلْمُصَلِّىْ بِالصَّلوٰةِ وَالسَّلاَمِ عَلٰى رَسُوْلِ اللهَﷺ فِىْ التَّشَهُّدِ لِيُنَبِّهَ الْغَافِلِيْنَ فِىْ جُلُوْسِهِمْ بَيْنَ يَدَىِ اللهُ عَزَوَجَلَّ عَلٰى شُهُوْدٍ فِىْ تِلْكَ الْحَضْرَةِ فَاِنَّهٗ لَايُفَارِقُ حَضْرَةَ اللهِ اَبَدًا فَيُخَا طِبُوْنَهٗ بِالسَّلاَمِ مُشَافَهَةً
ىعنى مىں نے سىدى على خواص علىه الرحمه سے سنا كه شارع حقىقى نے (قعده) تشهد مىں نمازى كو رسول اللهﷺ پر صلوٰة و سلام پڑھنے كا حكم صرف اس لئے دىا هے كه الله تعالىٰ كے دربار مىں بىٹھنے والے غافلوں كو اس بات پر تنبىه فرمادى كه جهاں وه بىٹھے هىں اس بارگاه مىں اُن كے نبىﷺ تشرىف فرما هىں اور وه كبھى بھى الله تعالىٰ كى بارگاه سے جدا نهىں هوتے تو نمازى نبى كرىمﷺ كو بالمشافه سلام كے ساتھ خطاب كرے (بحواله: كتاب المىزان ‘ ص 145)
علمائے اسلام كا سركار اعظمﷺ كو ’’ىا‘‘ كهه كر ندا دىنا
٭ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما کا پائوں سن ہوگیا۔ کسی نے کہا ان کو یاد کیجئے جو آپ کو سب سے محبوب ہیں۔ اس کے بعد حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما نے باآواز بلند ندا دی۔ یامحمدﷺ! پائوں فوراً درست ہوگیا (ادب المفرد،حدیث 993، ص 261، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ اردو بازار، لاہور)
٭ تاریخ ابن جریر میں ہے ’’اِنَّ الْصَّحَابَۃَ بَعْدَ مَوْتِ رَسُوْلِ اللهِ کَانَ شِعَارُہُمْ فِی الْحُرُوْبِ یٰامُحَمَّدُﷺ۔ جنگوں میں یامحمدﷺ‘‘ پکارنا بعد از وصال صحابہ کا شعار اور طریقہ تھا۔
٭ جنگ یمامہ میں جب مسلمانوں کا مقابلہ مسیلمہ کذاب کی فوج سے ہوا ’’ثُمَّ نَادٰی بِشِعَارِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ کَانَ شِعَارُہُمْ یَوْمَئِذٍ یَامُحَمَّدَاہُ‘‘ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے طریقہ کے مطابق نعرہ لگایا۔ اس وقت مسلمان یامحمداہﷺ کا نعرہ لگاتے تھے (البدایہ والنہایہ، جلد 6ص 318)
٭ تاریخ فتوح الشام ص 298 میں ہے۔ دورانِ جنگ صحابیٔ رسول حضرت کعب بن حمزہ کی فوج پر حملہ ہوا تو اس وقت پکارتے ’’یامحمد یا محمد یا نصر ﷲ انزل‘‘ اے محمد مصطفیﷺ! اے محمد مصطفیﷺ! اے اﷲ کی مدد تشریف لائو۔
=1حضرت امام بوصىرى علىه الرحمه قصىده برده شرىف مىں لكھتے هىں
يااكرم الخلق مالى من الوذبهٖ سواك عند حلول حادث العمم
اے بہترین مخلوق (ا) آپ کے سوا میرا
کوئی نہیں کہ مصیبت عامہ کے وقت جس کی پناہ لوں
2)… حضرت امام زین العابدین ص اپنے قصیدے میں لکھتے ہیں:
یا رحمۃ للعالمین ادرک لذین العابدین
محبوس ایدی الظالمین فی موکب المدد ھم
یا رحمت للعالمین ا ، زین العابدین کی مدد کریں
وہ لوگوں کے ہجوم میں ظالموں کی قید میں ہے ۔ (قصیدہ زین العابدین)
3)… امام جامی ص کی ندا :
زمھجوری برآمد جان عالم ترحم یانبی اللّٰہ ترحم
نہ آخر رحمۃ للعالمینی زمحدوماں چرفارغ نشینی
جدائی سے عالم کی جان نکل رہی ہے ۔ رحم فرماؤ یانبی ا
رحم فرماؤ کیا آپ رحمۃ للعالمین ا نہیں پھر مجرموں سے فارغ کیوں بیٹھے ہیں۔
4)… امام اعظم ابو حنیفہ ص کی ندا :
یا سیّد السادات جئتک قاصدًا ا رجو ارضاک وحتمی بحماک
اے سیّدوں کے سیّد ! پیشواؤں کے پیشوا ! ا
میں دلی قصد سے آپ کے حضورمیں آیا ہوں آپ کی مہربانی اورخوشنودی کی امید رکھتا ہوں اوراپنے آپ کو سب برائیوں سے آپ کی پناہ میں دیتاہوں۔
قرآن مجید، احادیث مبارکہ اوراکابر اولیاء اللہ سے اس بات کا ثبوت ملا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو لفظ ’’یا‘‘ کے
ساتھ مخاطب کرنا جائز ہے بلکہ صحابہ کرام اوراولیاء کرام کی سنّت ہے ۔
#Ask #Askmufti #darulifta #daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Shariah #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog
