Huzoor ﷺ Noor Hain Ya Bashar? | کیا حضور ﷺ کا نور ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

Huzoor ﷺ Noor Hain Ya Bashar? | کیا حضور ﷺ کا نور ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب:اسلامی عقائد میں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نور کے پیکر ہیں مگر اس دنیا میں بشری لبادے میں تشریف لائے لہذا رسول پاکﷺ بھی نور ہیں۔ آپﷺ کا نور ہونا آپﷺ کی حقیقت ہے اور بشریت آپﷺ کی صفت ہے لہذا ہمیں رسول پاکﷺ کی بشریت اور نورانیت دونوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔

القرآن:  قَدْ جَآءَكُم مِّنَ اللهِ نُوْرٌ (سورۂ مائدہ آیت15، پارہ 6)

ترجمہ: بے شک تمہارے پاس اﷲ کی طرف سے ایک نور آیا۔

تفسیر ابن عباس صفحہ 72، تفسیر کبیر صفحہ 396 جلد سوم، تفسیر خازن صفحہ 417، جلد اول، تفسیر مدارک صفحہ 470، جلد اول، تفسیر روح المعانی جلد 6، ص 87، تفسیر روح البیان، جلد اول، صفحہ نمبر 548، تفسیر درمنثور جلد سوم، صفحہ 231، تفسیر ابن جریر سمیت تمام معتبر تفاسیر میں مفسرین نے اس آیت میں نور سے مراد حضورﷺ کی ذات لی ہے۔

القرآن: مَثَلُ نُورِهٖ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ  اَلْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ  اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ                  (سورۂ نور، آیت 35 پاره 18)

ترجمہ: اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے۔

القرآن:  يُرِيْدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ 

(سورۂ صف، آیت 8پاره 28)

ترجمہ: چاہتے ہیں کہ اﷲ کانور اپنے مونہوں سے بجھادیں اور اﷲ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔

القرآن:  يُرِيدُوْنَ اَن يُّطْفِئُوْا نُورَ اللهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَيَاْبَى اللهُ اِلَّا اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهُ   (سورۂ توبہ، آیت 32پاره 10 )

ترجمہ: چاہتے ہیں کہ اﷲ کا نور اپنے منہ سے بجھادیں اور اﷲ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔

نورِ مصطفیﷺ تخلیق اوّل ہے

حدیث شریف: حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اے جابر رضی اﷲ عنہ! بے شک اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے تیرے نبیﷺ کا نور اپنے نور (کے فیض) سے پیدا فرمایا (مواہب اللدنیہ، زرقانی شریف، جلد اول، ص 42)

ئ       نبى كو اپنى طرح بشرسمجھنا كفار كا طرىقه هے:

سب سے پهلے نبى كو بے ادبى كى نىت بشر كهنے والا شىطان تھا‘ حضرت آدم علىه السلام كے بارے مىں شىطان نے كها:

القرآن: قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ

ترجمه: بولا مجھے زىبا نهىں كه بشر كو سجدوں كروں (سورئه حجر آىت 33)

معلوم هوا كه نبى كو حقارت اور بے ادبى سے بشر كهنے كا آغاز شىطان نے كىا پھر اس كے چىلے كفار و مشركىن بھى انبىاء كرام علىهم السلام كو اپنے جىسا بشر كهتے تھے۔

چنانچه حضرت نوح‘ حضرت صالح‘ حضرت هود علىهم السلام كى قوم كے كافروں نے ان سے كها:

 قَالُوا اِنْ اَنتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا     

ترجمه: تم تو هم هى جىسے بشر هو (سورئه ابراهىم آىت 10)

القرآن: وَمَا اَنتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا

ترجمه: تم تو نهىں مگر هم جىسے بشر (سورئه شعراء آىت 186)

ان تمام آىات سے معلوم هوا كه انبىاء كرام علىهم السلام كو اپنى طرح بشر كهنا اور سمجھنا شىطان كے پىروكاروں كا طرىقه هے‘ مومنوں كا طرىقه نهىں هے۔

پھر حضورﷺ نے اپنے آپ کو بشر کیوں کہا؟

رسول پاکﷺ کا اپنے آپ کو بشر کہنا یہ آپﷺ کی عاجزی و انکساری ہے ، جیسے کوئی حاکم وقت اپنی رعایا سے کہے کہ میں تو آپ کا خادم ہوں۔ خادم کہنا حاکم وقت کی عاجزی و انکساری ہے۔ اس طرح کہنے سے وہ خادم ہرگز نہ ہوگا۔ حضورﷺ سے اﷲ تعالیٰ نے بشر کہلوایا، خود رب کریم نے بشر نہ کہا۔ تاكه لوگ خدا نه سمجھىں اور نورى بشر بناكر اس لئے بھىجا تاكه لوگ اپنى طرح نه سمجھىں۔

نبیﷺ ہمارے جیسے نہیں

حدیث شریف: حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پے درپے متواتر روزے نہ رکھو اور تم میں سے جب کوئی متواتر روزے رکھنا چاہے تو سحری تک رکھ سکتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اﷲﷺ! آپﷺ متواتر روزے رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا۔ میں تمہاری مثل نہیں ہوں۔ میں رات گزارتا ہوں۔ مجھے کھلانے والا کھلاتا ہے اور پلانے والا پلاتا ہے (بخاری شریف، عربى‘ كتاب الصوم‘ حدىث نمبر 1963‘ص 315‘ مطبوعه دارالسلام‘ رىاض سعودى عرب)

نورانیت کے متعلق علمائے اسلام کے اقوال

1… تفسیر روح المعانی میں علامہ امام آلوسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ آپﷺ عظیم نور اور نوروں کا نور ہیں۔

2… امام شہاب الدین خفاجی علیہ الرحمہ نسیم الریاض میں فرماتے ہیں کہ پس اگر تم سمجھو تو آپﷺ نور علیٰ نور ہیں کیونکہ نور وہی ہوتا ہے جو خود بھی ظاہر ہو اور دوسروںکو بھی ظاہر کردے۔

3… حضرت شاہ عبدالغنی نابلسی علیہ الرحمہ حدیقہ ندیہ شرح طریقۂ محمدیہ میں فرماتے ہیں کہ تحقیق ہر شے حضورﷺ کے نور سے پیدا ہوئی جیسا کہ احادیث صحیح اس بارے میں وارد ہوئی ہیں۔

4…امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ کتاب الشفاء جلد اول ص 243 پر فرماتے ہیں کہ ذکر کیاگیا ہے آپﷺ کا سایہ سورج اور چاند کی روشنی میں نہیں پڑتا تھا کیونکہ آپﷺ نور ہیں۔

5… امام قسطلانی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مبارک اور ابن جوزی نے حضرت عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا کہ حضورﷺ کا سایہ نہیں تھا اور جب آپ سورج کی روشنی میں کھڑے ہوتے تو آپﷺ کا نور اس پر غالب آجاتا (زرقانی شرح مواہب، جلد 4، ص 22)

6 … شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ مدارج النبوت میں نقل فرماتے ہیں کہ بہرحال حضورﷺ مخلوق میں سے اول ہیں (جیسا کہ حدیث میں ہے) کہ سب سے پہلی چیز جسے اﷲ تعالیٰ نے پیدا فرمایا، وہ میرا نور ہے اور نبوت میں آپﷺ اول اس لئے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام پانى اور مٹى كے درمىان تھے۔

7… امام ابن حجر مکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ آپﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے خالص نور بنایا ہے جس کی وجہ سے آپﷺ کا سایہ ظاہر نہیں ہوتا تھا (افضل القریٰ)

سرور كونىنﷺ كى تخلىق نور سے هے مگر آپ دنىا مىں بشرى لبادے مىں نورى بشر بن كر جلوه گر هوئے۔ ىهى وجه هے كه آپ كے جسم اطهر سے نور كى شعاعىں نكلتى تھىں جس كا ثبوت احادىث هىں كه آپﷺ اندھىرى دىوار كے سامنے كھڑے هوجاتے تو وه چمكنے لگتى‘ چراغ بجھ گىا حضرت عائشه رضى الله عنها نے آپ كے نور كى روشنى مىں گم شده سوئى كو تلاش كرلىا‘ آپ كا ساىه نه تھا اور آپ مسكراتے تو نور كى شعاعىں نكلتى تھىں۔ ىه سب كمالات نورى بشر هونے پر دلالت كرتے هىں۔ عام بشر مىں ىه نورانىت كهاں؟

سرور كونىن نور مجسمﷺ كا ساىه نه هونے پر علمائے اُمّت كے ارشادات

=1 حضرت عبداﷲ ابن عباس رضى اﷲ عنه فرماتے هىں كه رسول پاكﷺ كے لئے ساىه نه تھا اور نه كھڑے هوئے آفتاب كے سامنے مگر ىه كه ان كا نور عالم افروز خورشىد كى روشنى پر غالب آگىا اور نه قىام فرماىا‘ چراغ كى روشنى مىں ‘ مگر ىه كه حضورﷺ كے تابش نور نے اس چمك كو پالىا (امام جوزى علىه الرحمه‘ كتاب الوفا‘ جلد 2‘ص 407)

حضرت ابن عباس رضى اﷲ عنه كے ارشاد سے ثابت هوا كه حضورﷺ صرف معنوى نور هى نهىں هىں‘  حِسّى نور بھى هىں ۔

=2 امام جلال الدىن سىوطى علىه الرحمه نے خصائص كبرىٰ مىں اىك باب كا عنوان قائم كىا هے۔ اس باب مىں حكىم ترمذى كے حوالے حضرت ذكوان رضى الله عنه كى رواىت لائے هىں كه سرور دوعالمﷺ كا ساىه نظر نه آتا تھا‘ دھوپ مىں اور نه چاندنى مىں۔

اس كے بعد محدث ابن سبع كا ىه ارشاد لائے هىں۔

نبى پاكﷺ كے خواص مىں سے هے كه آپ كا ساىه زمىن پر نه پڑتا تھا اور آپ نور هىں۔ اس لئے جب دھوپ ىا چاندنى مىں چلتے‘ آپﷺ كا ساىه نظر نه آتا تھا‘ بعض علماء نے كها كه اس كى شاهد (گواه) وه حدىث هے كه نبى پاكﷺ نے اپنى دعا مىں عرض كىا كه مجھے نور بنادے (خصائص الكبرىٰ‘ جلد 1‘ ص 68‘ مطبوعه مكتبه نورىه رضوىه ‘ فىصل آباد)

=3  امام جلال الدىن سىوطى علىه الرحمه اپنى تصنىف ’’الموذج اللبىب فى خصائص الحبىب ص 53 پر فرماتے هىں ۔ نبى پاكﷺ كا ساىه نظر نهىں آىا‘ نه دھوپ مىں نه چاندنى مىں۔

=4 امام قاضى عىاض علىه الرحمه فرماتے هىں۔ حضور اكرمﷺ كے معجزات مىں سے وه بات هے جو بىان كى گئى كه آپﷺ كے جسم انور كا ساىه نه دھوپ مىں هوتا نه چاندى مىں‘ اس لئے كه حضورﷺ نور هىں۔ (كتاب الشفاء جلد اول‘ ص 243)

=5 امام احمد بن قسطلانى علىه الرحمه نے فرماىا: نبى اكرمﷺ كا دھوپ اور چاندنى مىں ساىه نه تھا (مواهب اللدنىه (مع زرقانى) جلد 4‘ص 253)

=6 گىارهوىں صدى كے مجدد شاه عبدالحق محدث دهلوى علىه الرحمه نے حكىم ترمذى كى رواىت نقل كرنے كے بعد فرماىا: حضورﷺ كے ناموں مىں سے اىك نام نور هے اور نور كا ساىه نهىں هوتا (مدارج النبوت‘ جلد 1‘ ص 21)

=7 تىرهوىں صدى كے مجدد امام ربانى مجدد الف ثانى علىه الرحمه فرماتے هىں۔ عالم شهادت مىں كسى بھى شخص كا ساىه اس سے لطىف هوتا هے اور چونكه پورے جهان مىں آپﷺ سے زىاده لطىف كوئى نهىں هے‘ تو آپ كا ساىه كس طرح هوسكتا هے (مكتوبات امام ربانى حصه نهم‘ دفتر سوم‘ ص 153‘ مطبوعه لاهور)

=8 علامه عبدالرئوف مناوى علىه الرحمه نے امام ابن مبارك اور ابن جوزى كے حوالے سے سىدنا ابن عباس رضى الله عنه كى حدىث نقل كى هے كه نبى كرىم ﷺ كا ساىه زمىن پر نهىں پڑتا تھا (شرح شمائل ترمذى‘ جلد اول‘ ص 47)

=9 حضرت شاه عبدالعزىز محدث دهلوى علىه الرحمه سورئه والضحىٰ كى تفسىر مىں فرماتے هىں كه نبى پاكﷺ كا ساىه زمىن پر نهىں پڑتا تھا ۔

(تفسىر عزىزى‘ فارسى ‘ص312 مطبوعه مصر)

ئ   تمام دلائل سے ثابت هوا كه حضورﷺ نورى بشر هىں اور كسى اعتبار سے بھى رسول همارے جىسے نهىں بلكه بے مثل و بے مثال هىں۔ هم حضورﷺ كى بشرىت كا انكار نهىں كرتے‘ نه هى همارے امام كا ىه عقىده هے بلكه همارے امام كا ارشاد هے:

امام احمد رضا خان محدث برىلى علىه الرحمه فرماتے هىں كه جو شخص مطلقاً حضورﷺ كى بشرىت كا انكار كرے‘ وه كافر هے ۔          (فتاوىٰ رضوىه‘ جلد 6‘ ص 67)

#Ask #Askmufti #darulifta #daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Shariah #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog

Leave a comment

About us

Maulana Shehzad Turabi is an Islamic scholar of Ahle Sunnat Wal Jamat.
He is a preacher and writer of 100 Islamic books as well.

Follow Us

Contacts

Maulana Shehzad Turabi2026 All rights reserved.