سنت نبوی کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ
جو لوگ نماز کی سنتوں کو ہلکہ سمجھتے ہیں کل قیامت میں معلوم ہوگا کہ انہوں نے قیمتی انمول ہیرے کھودیا۔۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمہ ، بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے( احزاب ،21)
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں
مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِیْ فَـقَدْ اَحَبَّنِیْ وَ مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی، اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی، وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔
مشکاۃ الصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی،۱/۵۵،حدیث:۱۷۵
مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِی عِنْدَ فَسَادِ اُمَّتِی فَلَہُ اَجرُ مِائَۃِ شَہِیْدٍ ترجمہ: جو فسادِ امّت کے وقت میری سنّت پر عمل کرے گا اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص55، حدیث: 176
مَنْ اَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ اُمِیتَتْ بَعْدِی، فَإِنَّ لَہُ مِنَ الاَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا ترجمہ: جو میری سنّت زندہ کرے کہ لوگوں نے میرے بعد چھوڑدی ہو جتنے اس پر عمل کریں سب کے برابر اسے ثواب ملے اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو۔(ترمذی،ج 4،ص309، حدیث:2686)
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي ، حدثنا الوليد بن مسلم ، حدثنا عبد الله بن العلاء يعنى ابن زبر ، حدثني يحيى بن ابي المطاع ، قال: سمعت العرباض بن سارية ، يقول: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فوعظنا موعظة بليغة وجلت منها القلوب، وذرفت منها العيون، فقيل: يا رسول الله، وعظتنا موعظة مودع، فاعهد إلينا بعهد، فقال:” عليكم بتقوى الله، والسمع، والطاعة، وإن عبدا حبشيا، وسترون من بعدي اختلافا شديدا، فعليكم بسنتي، وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عضوا عليها بالنواجذ، وإياكم والامور المحدثات، فإن كل بدعة ضلالة
ترجمہ: عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے ڈرو، اور امیر (سربراہ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں (بدعتوں) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے“
تخریج الحدیث: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9891) (صحیح)»
عبدالعزیز بن عبداللہ لیث، حضرت ابولیث سعید حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کو جس قدر آیات دی گئی ہیں اسی قدر ان پر ایمان لایا گیا اور مجھے تو وحی دی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف بھیجی ہے اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہوں گے۔ بخاری شریف : 2179
اسماعیل مالک عبداللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالملک بن مروان کے پاس بیعت کا خط بھیجا کہ جس قدر مجھ سے ہوگا اللہ او اس کے رسول کی سنت پرسننے اور اطاعت کرنے کا ا قرار کرتا ہوں۔
بخاری شریف، حدیث نمبر: 2177
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:اللہ عزوجل کا ایک فرشتہ ہر روز یہ اعلان کرتا ہے جس نے سنت رسول کی مخالفت کی اسے آپ کی شفاعت نصیب نہ ہوگی۔(قوت القلوب ۲ ص ۷۳)
