Qabr Ko Pakka Karna Kaisa? | قبر کو محفوظ کرنے کے لیے پکا کرنا اور اس پر تختی لگاناحرام ہے؟حرام ہے؟

Qabr Ko Pakka Karna Kaisa? | قبر کو محفوظ کرنے کے لیے پکا کرنا اور اس پر تختی لگاناحرام ہے؟حرام ہے؟

قبر بنانے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

 کیا قبر کے لئے پکی اینٹوں کا استعمال جائز نہیں ہے؟

’’مضمرات‘‘ میں ہے کہ حضرت شیخ ابوبکر بن فضل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ ہمارے ہاں قبروں کے لئے پکی اینٹیں اور رفرف لکڑی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

(المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاۃ، باب غسل المیت جلد اول الجزء 2، ص 98)

حضرت امام تمر تاشی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ قبر کے لئے پکی اینٹوں کے استعمال میں اختلاف اس وقت ہے جبکہ میت کے اردگرد لگائی جائیں اور اگر قبر کے اوپر ہوں تو جائز ہے کیونکہ اس طرح قبر کی درندوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ کفن کو چوری سے بچانے کے لئے قبر کو کچی اینٹوں کے ساتھ کوہان نما بنانے کا رواج ہے اور عوام و خواص میں اسے بہت اچھا سمجھا جاتا ہے

 (ردالمحتار کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی دفن المیت، جلد 3، ص 167 تا 170)

تنویر الابصار میں ہے۔ قبر پر قبہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اور یہی صحیح ہے

 (تنویر الابصار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی دفن المیت، جلد 3، ص 169) الحمدﷲ قرآن و حدیث اور فقہی عبارات بلکہ مستند کتب سے یہ ثابت ہوگیا کہ اولیاء اﷲ کی قبور پر گنبد وغیرہ بنانا جائز ہے۔ عقل بھی چاہتی ہے کہ یہ جائز ہونا چاہئے۔ عام کچی قبروں کا عوام کی نگاہ میں نہ ادب ہوتا ہے، نہ احترام، نہ زیادہ فاتحہ نہ کچھ اہتمام ہوتا ہے بلکہ لوگ پیروں تلے اس کو روندتے ہیں اور اگر کسی قبر کو پختہ دیکھتے ہیں، غلاف وغیرہ رکھا ہوا پاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ یہ کسی بزرگ کی قبر ہے۔ خود بخود فاتحہ کو ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ مشکوٰۃ شریف باب الدفن میں اور مشکوٰۃ کی شرح مرقات میں ہے کہ مسلمانوں کا زندگی اور موت کے بعد ایک سا ادب ہونا چاہئے۔

#Ask #Askmufti #darulifta #Qabar #Graveyard #daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Shariah #DIscussion #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog

Leave a comment

About us

Maulana Shehzad Turabi is an Islamic scholar of Ahle Sunnat Wal Jamat.
He is a preacher and writer of 100 Islamic books as well.

Follow Us

Contacts

Maulana Shehzad Turabi2026 All rights reserved.