سوال: کیا بعد از وصال اولیاء الله رحمهم الله ایک جگه سے دوسرى جگه تشرىف لے جاسكتے هیں؟
جواب: حق تعالىٰ كے نىك بندے بعد از وصال اىك جگه سے دوسرى جگه تشرىف لے جاسكتے هىں۔
حدىث شرىف= حضرت سلمىٰ رضى الله عنها سے رواىت هے۔ فرماتى هىں: مىں حضرت اُمّ سلمىٰ رضى الله عنها كى خدمت مىں حاضر هوئى‘ وه رو رهى تھىں‘ مىں نے پوچھا آپ كىوں رو رهى هىں۔ انهوں نے فرماىا كه نبى اكرمﷺ كو خواب مىں دىكھا۔ آپﷺ كى داڑھى مبارك اور سر انور گرد آلود تھے۔ مىں نے عرض كىا ىا رسول اللهﷺ كىا بات هے؟ آپﷺ نے فرماىا۔ مىں ابھى حسىن رضى الله عنه كى شهادت مىں شرىك هوا هوں ۔ (ترمذى‘ ابواب المناقب‘ حدىث 3771 ص 856 مطبوعه دارالسلام رىاض سعودى عرب)
فائده= اس حدىث شرىف سے معلوم هوا كه نبى پاك ﷺ وصال كے بعد بھى الله تعالىٰ كى دى هوئى طاقت سے جب چاهىں‘ جهاں چاهىں تشرىف لے جاسكتے هىں۔
شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ کا بعد از وصال تشریف لانا
حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے انفاس العارفین میں لکھا ہے کہ میرے والد شیخ عبدالرحیم محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے تھے کہ میں آگرہ میں مرزا زاہد کے درس سے واپس آرہا تھا۔ راستے میں ایک لمبے کوچہ سے میرا گزر ہوا، اس وقت مجھے خوب ذوق وشوق حاصل تھا اور میں شیخ سعدی کے یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔
جزیاد دوست ہرچہ کنی عمر ضائع است
جز سر عشق ہرچہ بخوانی بطالت است
سعدی بشو تو لوح دل از غیر حق
علمے کے راہ حق نہ نماید جہالت است
چوتھا مصرع میرے ذہن سے نکل گیا اور یاد نہیں آرہا تھا۔ اس کے سبب میرے دل میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہونے لگی۔ اچانک دیکھتا ہوں کہ ایک فقیر منش، دراز زلف اور ملیح چہرہ والا پیر مرد ظاہر ہوا اور کہنے لگا:
علمے کے راہ حق نہ نماید جہالت است
میں نے یہ سن کر کہاکہ جزاک اﷲ خیر الجزاء آپ نے میرے دل سے بہت بڑی بے چینی اور اضطراب کو دور فرمادیا۔ پھر میں نے ان کی خدمت میں پان پیش کیا، وہ مسکرائے اور کہنے لگے۔ کیایہ یاد دلانے کی اُجرت ہے، میں نے کہا نہیں بلکہ یہ شکرانے کے طور پر ہے۔ فرمایا میں نہیں کھاتا، پھر فرمایا مجھے جلد جانا چاہئے۔ میں نے کہا میں بھی ساتھ چلوں گا۔ کہنے لگے میں بہت تیز اور جلد جانا چاہتا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنا قدم بڑھا کر کوچے کے آخری سرے پر رکھا۔ تب میں سمجھا کہ یہ توکوئی روح مجسم ہے۔ میں نے کہا ’’حضرت اپنے نام سے تو آگاہ کیجئے تاکہ میں آپ پر فاتحہ پڑھ سکوں‘‘ تو انہوں نے فورا مڑ کر کہا ’’فقیر کو سعدی شیرازی کہتے ہیں‘‘
حضرت شیخ احمد سبتی علیہ الرحمہ بعد از وصال طواف کرتے پائے گئے
شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نمازجمعہ کے بعد میں طواف کررہا تھا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ بھی طواف میں مشغول ہے لیکن اس کی راہ میں دوسرے لوگ رکاوٹ نہیں بن رہے ہیں۔ وہ دو آدمیوں میں اس طرح نکل جاتا ہے کہ ان دونوں میں سے کسی کو جدا ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میںاس شخص کا یہ حال دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہ جسد عنصری نہیں بلکہ جسم مثالی ہے۔ میں اس کی راہ میں کھڑا ہوگیا۔ جب وہ سامنے آیا تو میں نے اس کو سلام کیا۔ اس نے جواب دیا۔ میں اس کے ساتھ ہوکر اس سے گفتگو کرنے لگا۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ حضرت احمد سبتی علیہ الرحمہ ہیں۔
میں نے پوچھا کہ حضرت ہفتہ کے سات دنوں میں آپ نے اپنی زندگی میں صرف سنیچر کو کسب معاش کے لئے کیوں مخصوص فرمادیا تھا۔ آپ نے فرمایا اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ نے یک شنبہ کو تخلیق عالم شروع فرمائی اور جمعہ کے دن مکمل ہوا۔ یہ چھ دن وہ ہمارے کام کرتا رہا۔ میں بھی اس لئے چھ دن اس کے کام میں مصروف رہا کرتا تھا اور اپنے حظ نفس کے لئے ان دنوں میں کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ جب شنبہ (سنیچر) کا دن آیا تو اس کو میں نے اپنی کسب معاش کے لئے مقرر کیا تاکہ ان چھ دنوں کے لئے قوت کا کچھ انتظام ہوجائے۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ حضرت آپ کے زمانے میں قطب وقت کون تھا؟ فرمایا کہ میں تھا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے رخصت ہوگئے اور میں اپنی جگہ واپس آگیا –
(از كتاب: فتوحاتِ مكىه مصنف: امام محى الدىن ابن عربى علىه الرحمه)
بعد از وصال ایک بزرگ کا شیخ ابن عربی کی اعانت کیلئے تشریف لانا
شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ اپنے ایک روحانی مقام کی بابت لکھتے ہیں کہ مجھ پر حیرت غالب ہوئی اور بوجہ تنہائی کے وحشت معلوم ہونے لگی۔ اس مقام کا نام بھی مجھے معلوم نہ تھا۔ حالانکہ وہ مقام مجھے حاصل تھا۔ اس وحشت و حیرت کے ساتھ میں وہاں سے چل پڑا اور عصر کی نماز کے بعد ایک دوست کے مکان پر جاٹھہرا اور اسی حیرت و حشت کی حالت میں اس سے گفتگو کرتا تھا کہ اچانک ایک شخص ظاہر ہوا اور اس نے مجھے گلے لگالیا (جس سے میری وحشت دور ہوئی) میں نے غور سے دیکھا تو وہ شیخ ابو عبدالرحمن سلمیٰ علیہ الرحمہ کی روح مبارک تھی جو جسم مثالی میں میرے پاس آئی تھی اور حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس کو میرے پاس بھیجا تھا۔
میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کو بھی اس مقام پر پاتا ہوں فرمایا کہ ’’ہاں میں قبر پر حاضر ہوا اور التجا کی کہ اپنی دوستی کا شرف بخشیں۔ آپ قبر سے نکلے اور اس سے دوستی کا عہد باندھا‘‘
(جامع کرامات اولیاء)
بعد از وصال خواجہ بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے
شاہ عبدالرحیم کا مکالمہ
شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں خواجہ قطب الدین بختیار علیہ الرحمہ کے مزار کی زیارت کو گیا۔ ادب کی وجہ سے میں مزار کے قریب چبوترے پر کھڑا ہوگیا کہ خواجہ صاحب کی روح جسم مثالی میں ظاہر ہوئی اور فرمایا آگے آئو، میں دو تین قدم آگے بڑھا، فرمایا اور آگے آئو۔ میں اور بڑھا۔ یہاں تک کہ میں آپ کے بہت ہی قریب پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب نے پوچھا تم شعر کے متعلق کیا کہتے ہو؟ میں نے جواب دیا ’’کلام حسنہ حسن قبیحہ قبیح‘‘ یعنی وہ ایک کلام ہے اس میں سے جو اچھا ہے وہ بہتر ہے اور جو برا ہے وہ خراب ہے۔ فرمایا بارک اﷲ
پھر خواجہ صاحب نے پوچھا۔ خوبصورت آواز کے متعلق کیا کہتے ہو؟ میں نے جواب دیا ’’ذلک فضل ﷲ یؤتیہ من یشائ‘‘ یہ اﷲ کا فضل جس کو عطا کردے۔ پوچھا جب یہ دونوں جمع ہوجائیں (یعنی اچھا شعر اور اچھی آواز) تو تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا ’’نور علی نور یہدی اﷲ لنورہ من یشاء‘‘ فرمایا، بارک اﷲ تم بھی کبھی کبھار ایک دو بیت سن لیا کرو۔ ایک دوسری مرتبہ جب ان کے مزار پر گیا تو ان کی روح متمثل ہوئی اور مجھ سے فرمایا کہ تمہارے یہاں ایک فرزند پیدا ہوگا۔ اس کا نام قطب الدین رکھنا۔ چونکہ میری بیوی سن ایام کو پہنچ گئی تھی۔ مجھے خیال گزرا کہ شاید حضرت کی مراد بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا ہے۔ آپ میرے اس خیال سے آگاہ ہوگئے اور فرمایا۔ میرا یہ مقصد نہیں، یہ فرزند تیری ہی پشت سے پیدا ہوگا۔ ایک مدت کے بعد میرا دوسرا نکاح ہوا۔ اس سے میرا بیٹا شاہ ولی اﷲ پیدا ہوا۔ میں نے اس کا دوسرا نام قطب الدین رکھا (انفاس العارفین)
خواجہ بختیار کاکی علیہ الرحمہ بعد از وصال
خود اپنی قبر سے گھوڑے پر سوار نکلے
شیخ بدر الدین سرہندی خلیفہ حضرت امام ربانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت خواجہ بختیار کاکی قدس سرہ کے مزار پر حاضر ہوا اور بہت عاجزی کے ساتھ آپ کے روبرو بیٹھ کر آپ کی طرف متوجہ ہوا۔ یکایک دیکھا کہ حضرت خواجہ ایک عربی گھوڑے پر سوار اپنی قبر سے باہر تشریف لائے۔ اس طرح کہ گھوڑے کا پچھلا نصف حصہ قبر میں تھا اور اگلا نصف حصہ مزار سے باہر تھا۔ آپ نے گھوڑے کو اتنی دور ہی چلایا۔ پھر مجھ سے فرمایا ’’وہ نسبت معیت تھی جو حضرت خواجہ باقی باﷲ نے تم کو دی ہے، وہ انہوں نے مجھ سے لی ہے اور وہ نسبت میری نسبت ہے اس کو اچھی طرح محفوظ رکھو اور خود کو تم میرا ہی سمجھو اور یہیں سے تم واپس جائو۔ ایک گوشہ میں بیٹھ جائو اور لوگوں کی آمدورفت اپنے اوپر بند کردو۔ جو کچھ تم اس سفر میں تلاش کررہے ہو، وہ تمہیں وہیں مل جائے گی‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’اب جبکہ میں چل پڑا ہوں تو ایک بار اکبر آباد ہو آئوں پھر واپس آکر آپ نے جو فرمایا ہے اس پر عمل کروں گا‘‘ حضرت خواجہ نے فرمایا ’’جائو اور جلد واپس آجائو‘‘ (حضرات القدس حصہ دوم)
شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ نے بعد از وصال مولانا صدر الدین قونوی علیہ الرحمہ کو ایک خاص تجلی سے مشرف فرمایا
شیخ صدر الدین قونوی علیہ الرحمہ کا بیان ہے کہ میرے شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ اپنی زندگی میں مجھے ایک خاص تجلی سے مشرف کرنا چاہتے تھے مگر اس پر قادر نہ ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد میں ان کے مزار پر گیا اور زیارت کرکے واپس آرہا تھا۔ اس وقت حق تعالیٰ کی محبت کا اس قدر مجھ پر غلبہ ہوا کہ قریب تھا کہ میں تمام کائنات سے بے خبر ہوجائوں۔ اس حالت میں حضرت شیخ کی روح نہایت حسین صورت میں میرے سامنے آئی۔گویا محض نور تھی اور اس وقت مجھے اس تجلی سے مشرف فرمایا جب مجھ کو افاقہ ہوا تو سلام اور معانقہ کیا اور فرمایا الحمدﷲ! جس نے حجاب کو دور کیا اور احباب کو ملایا اور قصد و کوشش کو ناکام نہیں کیا (نزہۃ البساتین)
چار بزرگ اپنی قبور میں زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں
علامہ شطنوفی بہجۃ الاسرار میں شیخ عقیل منیحی رضی اﷲ عنہ کے حال میں لکھتے ہیں۔ یہ ان چار بزرگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں حضرت شیخ علی قرشی رضی اﷲ عنہ نے یوں فرمایا ہے کہ میں نے مشائخ میں سے چار کو دیکھا جو اپنی قبروں میں زندہ کی طرح تصرف فرماتے ہیں اور وہ یہ ہیں: شیخ عبدالقادر جیلانی، شیخ معروف کرخی، شیخ عقیل منیحی اور شیخ حیات بن قیس حرانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم (کتاب البرزخ، علامہ نور بخش توکلی علیہ الرحمہ، ص 184، مطبوعہ فرید بک اسٹال، لاہور)
#Ask #Askmufti #Darulifta #Daruliftaahlesunnat #Hadees #Hadith #Youthclub #Shariah #Discussion #Sawal #Jawab #Forum #Article #Blog #Wali #Qabar
